بیروت،22اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) لبنان میں سرکاری فوج پیر کی شب بیروت کے داخلی راستوں پر تعینات کر دی گئی تا کہ دارالحکومت کے وسط میں مظاہرین کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
اس دوران بیروت کے داخلی راستوں اور بشارہ خوری کے علاقے میں فوج کی عسکری گاڑیوں کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔ علاوہ ازیں لبنانی فوج نے سائیکل سواروں کو بیروت کے وسطی علاقے میں داخل ہونے سے روک دیا۔
اس سے قبل فوج نے حزب اللہ اور امل موومنٹ کے حامیوں اور کارکنان کے مظاہرے کو منتشر کر دیا اور انہیں عوامی احتجاج کنندگان کے ساتھ متصادم ہونے سے روک دیا۔
لبنانی میڈیا کے مطابق حکومت نے اس امر کی تردید کر دی ہے کہ وہ ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا کوئی ارادہ رکھتی ہے۔
ذرائع نے العربیہ کو باور کرایا ہے کہ مظاہرین کو کھلے مقامات استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے مگر حکومت راستے بند کرنے کو ہر گز قبول نہیں کرے گا۔ اس حوالے سے عام شاہراہوں کو کھولنے اور ان کی بندش کو روکنے کے سلسلے میں فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
اس سے قبل لبنان میں مظاہرین نے پیر کے روز ایک بیان میں وزیراعظم سعد حریری کی حکومت کی جانب سے منظور کردہ اصلاحات کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی اصلاحات ہونے اور حکومت کے مستعفی ہونے تک احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
بیان میں حکومتی اصلاحات پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اب تک کئی برسوں سے یہ اصلاحات کہاں تھیں !
بیان میں حکومت کی جانب سے اعلان کردہ اصلاحاتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ مظاہرین کے مطابق معیشت کے پہیے کو حرکت میں لانے والے منصوبے غائب ہیں اور مزید قرضوں کا بوجھ بڑھانے کے سوی کچھ نظر نہیں آ رہا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بعض کونسلوں اور وزارتوں کے بجٹ کو%70 تک کم کر دینے کا مطلب یہ ہوا کہ ان کے ترقیاتی دور کو ختم کر دیا گیا ہے۔
بیان میں مظاہرین نے واضح کر دیا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے ظالمانہ ٹیکسوں اور فرقہ وارانہ کوٹے کے خاتمے اور تمام مطالبات پورے ہونے تک پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ مطالبات میں حکومت کا فوری طور پر مستعفی ہونا اور ایک چھوٹی ریسکیو گورنمنٹ کی تشکیل شامل ہے۔ یہ حکومت خود مختار اور آزاد ماہرین پر مشتمل ہو جن کا حکمراں نظام سے کوئی تعلق نہ ہو"۔
بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ ریسکیو گورنمنٹ سے جو اقدامات مطلوب ہیں ان میں منصفانہ انتخابی قانون کی بنیاد پر قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کا اجرا، اقتصادی بحران سے انتظامی طور پر نمٹنا، ٹیکس کے منصفانہ نظام کی منظوری، عدلیہ کی مامونیت اور سیاسی قوتوں کی مداخلت کو جرم قرار دینا شامل ہے۔
بیان میں لوگوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ حکومت کے رخصت ہونے تک سڑکوں پر آ کر راستوں میں پڑاؤ ڈال دیں اور آمد و رفت کے نظام کو مفلوج کر دیں۔
لبنان میں عوامی مظاہرے پیر کو اپنے پانچویں روز میں داخل ہو گئے۔ اس سے قبل اتوار کو بیس لاکھ کے قریب لبنانی سڑکوں پر نکل آئے تھے۔ انہوں نے ملک بھر میں غیر معینہ مدت کی عام ہڑتال اور نقل و حرکت کو مفلوج بنا دینے کا مطالبہ کیا۔
گذشتہ روز بعبدا کے محل میں لبنانی کابینہ کا اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ یہ اجلاس خاص طور پر وزیراعظم سعد حریری کی جانب سے پیش کردہ اقتصادی اصلاحات کا پیکج زیر بحث لانے کے لیے مختص تھا۔ حریری نے یہ پیکج ملک میں جاری غیر معمولی نوعیت کے بحران سے باہر آنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا۔ اجلاس میں حریری کے اقتصادی پیکج اور 2020 کے بجٹ کی منظوری دے دی گئی۔
لبنان کے ایوان صدارت کی جانب سے کی گئی ایک ٹویٹ میں بتایا گیا کہ صدر میشیل عون نے کابینہ کے اجلاس کے انعقاد سے قبل وزیراعظم سعد حریری سے ملاقات کی۔